کتاب:- "تم"
صنف:- ناول
مصنف:- ابدال بیلا
پبلیشر:- سنگ میل پبلیشرز
قیمت و صفحات:- 400 روپے، 232 صفحات
تبصرہ نگار:- محمد عمران اسحاق
ابدال بیلا مرحوم کی تخلیق "تم" سے میرا پہلا تعارف ہوا ہے۔ ان کے ناولوں کی شہرت پہلے سے سن رکھی تھی، اور یہ ناول پڑھنے کے بعد مجھے مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بلکہ، جیسا کہ ان کی نثر اور کہانی کے بارے میں مشہور تھا، ویسا ہی جادوئی اثر محسوس ہوا۔ مصنف کا اندازِ بیان نہایت شاندار ہے، جبکہ فقروں کی شیرینی قاری کو مسحور کر دیتی ہے۔
سنگِ میل پبلیشرز نے اس مختصر ناول کو انتہائی خوبصورت سرورق اور مضبوط بائنڈنگ کے ساتھ شائع کیا ہے، جو کتاب کی کشش میں اضافہ کرتا ہے۔
ناول کے کل دس ابواب ہیں: "تم اور میں"، "ہم"، "تم"، "وہ"، "میں"، "سیراں ثانی"، "دستک"، "انتظار"، "دروازہ"، اور آخری باب "ماریا"۔ پورے ناول میں یہ احساس غالب رہتا ہے کہ یہ کہانی درحقیقت مصنف کے باطنی سفر کی عکاس ہے۔ "میں" کے کردار میں ابدال بیلا کی شخصیت واضح طور پر جھلکتی ہے، جبکہ "تم" کے کردار کے بارے میں قاری کے ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ کیا یہ بھی کوئی حقیقی وجود رکھتا ہے؟
"تم" ناول کا وہ مرکزی کردار ہے جو "میں" کے مجازی سفر کی منزل ہے۔ جب "میں" اور "تم" "ہم" بنتے ہیں، تو اس سفر میں رومانس، محبت، تصوف، اور روحانیت کی جھلکیاں نمایاں ہوتی ہیں۔
اقتباس:-
"تم کون ہو؟ کیوں پیاسا رکھتی ہو؟
جانتی ہو، پیاس صرف پیاسے کی ہی نہیں ہوتی، پانی کی بھی ہوتی ہے۔
پانی کی پیاس اسے پیا جانا ہے۔
وہ پیا نہ جائے تو مر جاتا ہے، گدلا جاتا ہے۔
تم کبھی ریگزاروں کی راہ میں ہزارہا قدم دھوپ کے سفر کے بعد آئے کسی نخلستان میں میٹھے ٹھنڈے پانی سے بھرے کنویں سے جا کے پوچھنا۔
جتنا انتظار مسافر کو اس کنویں سے پیاس بجھانے کا ہوتا ہے،
اس سے کہیں زیادہ کنواں پیاسے کی راہ دیکھتا رہتا ہے۔
میری پیاری، کنویں کو پانی پلانے کا انتظار پیاسے کے پانی پینے کی طلب سے کم نہیں ہے۔
کنواں ہو، کھوئی ہو تو پھر کس سوچ میں کھو گئی ہو؟"
ناول "تم" ایک ایسی تخلیق ہے جو قاری کو نہ صرف کہانی کے سحر میں مبتلا کرتی ہے، بلکہ اسے اپنے باطن کی گہرائیوں میں اترنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ ابدال بیلا کی یہ تحریر ادب کے شائقین کے لیے ایک نادر تحفہ ہے۔
0 Comments
Thank you