کتاب کا نام:- نہ قفس نہ اشیانہ
مصنف:- سہیل فدا
ناشر:-پیرا ماؤنٹ پبلشر
تبصرہ نگار: محمد عمران اسحاق
کتاب دوست شمشیر صاحب سے حفیظ گوہر صاحب کی کتاب " نہ قفس نہ اشیانہ" کا یہ شعر مستعار لیا ہے
مری زندگی میں کیا ہے، نہ قفس نہ آشیانہ
مجھے بس یہی گلہ ہے، نہ قفس نہ آشیانہ
مجھے ہر گھڑی یہی غم نہیں کوئی میرا ہمدم
یہ عجیب ماجرا ہے، نہ قفس نہ آشیانہ
اور۔۔۔
سر رہ سسک رہا پے، اسے گھر ہی لے چلو
یہ پرند پر کٹا ہے، نہ قفس نہ اشیانہ
مجھے مل گئی رہائی میں کہاں رہوں گا گوہر
مرا دل یہ رو رہا ہے، نہ قفس نہ آشیانہ
"نہ قفس نہ اشیانہ" ایک ایسی کتاب ہے جو آپ کو جکڑ لیتی ہے اور آپ کو اپنے ساتھ ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں ظلم و تشدد ، صبر، اور جدوجہد کی کہانی آپ کے دل کو چھو جاتی ہے۔ یہ کتاب صرف ایک جیل کی روداد نہیں، بلکہ ایک معصوم انسان کی وہ دردناک داستان ہے جو اس نے اپنے اوپر لگائے گئے جھوٹے الزامات کی وجہ سے برداشت کی۔
فدا سہیل، جو اپنے قریبی رشتہ دار کے قتل کے جھوٹے الزام میں پھنس جاتے ہیں، کو انتہائی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ اپنی معصومیت پر قائم رہتے ہیں۔ یہ کتاب ان کی جیل میں گزارے گئے 12 سال کی کہانی ہے، جہاں وہ نہ صرف اپنی تعلیم جاری رکھتے ہیں، بلکہ اپنے اندر کی طاقت کو پہچان کر ایک نئی زندگی کی بنیاد رکھتے ہیں۔
جیل کے اندر رہتے ہوئے سہیل فدا نے ایف اے، بی اے، اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انہوں نے انگلش زبان سیکھی، کس طرح جیل میں رہ کر انگش سیکھی یہ بھی ایک دل چسپ کہانی ہے ، کتابوں سے محبت کی، اور اپنے آپ کو علم کے ذریعے مضبوط بنایا۔ یہ کتاب صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، بلکہ انسان کی عزم اور ہمت کی ایک زندہ مثال ہے۔
یہ کتاب جیل میں لکھی گئی ہے اور مصنف کے رہا ہونے سے پہلے پبلش ہوئی ہے ، کیسے پبلش ہوئی ؟ یہ بھی قاری کے لیے نئی اور بہترین معلومات سے لبریز ہے ۔
بک فیئر ایکسپو سینٹر لاہور میں کتاب "سفارت اور سفارتکاری: ایک دور کی کہانی" کی تلاش میں تھا۔ وہاں پیرا ماؤنٹ پبلشر کا سٹال نظر آیا، جہاں مجھے اپنی مطلوبہ کتاب نظر آئی۔ وہاں موجود پیرا ماؤنٹ پبلشر کے ایک نمائندے، عظیم صاحب، نے مجھے یہ کتاب تجویز کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے ذوق کے مطابق یہ کتاب مجھے ضرور پڑھنی چاہیے۔ اور پھر یہ کتاب مجھے ہمارے ساتھ موجود بابا جی "ایوب بھٹی صاحب" کی طرف سے بطور تحفہ ملی، جو کتابوں کے بے حد شوقین ہیں۔ یہ کتاب مجھ تک ایک خاص طرح سے پہنچی، جیسے کہا جاتا ہے کہ کتابیں اپنے قاری کو خود ڈھونڈ لیتی ہیں۔
"نہ قفس نہ اشیانہ" ایک ایسی کتاب ہے جو آپ کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ آپ کو بتاتی ہے کہ زندگی میں کتنی بھی مشکل حالات کیوں نہ ہوں، انسان اپنے عزم اور محنت سے کچھ بھی حاصل کر سکتا ہے۔ فدا سہیل کی یہ کہانی نہ صرف متاثر کن ہے، بلکہ یہ آپ کو ایک نئی توانائی اور حوصلہ دیتی ہے۔
اگر آپ کو حقیقی زندگی کی کہانیاں پڑھنے کا شوق ہے، تو یہ کتاب آپ کے لیے ضروری ہے۔ یہ آپ کو جذباتی، ذہنی، اور روحانی طور پر متاثر کرے گی۔ "نہ کفس نہ اشیانہ" صرف ایک کتاب نہیں، یہ ایک تجربہ ہے جو آپ کو زندگی کے نئے زاویے دکھاتا ہے۔
0 Comments
Thank you