Badi jel se choti jel tak /بڑی جیل سے چھوٹی جیل تکby Raja Anwar

 

Badi jel se choti jel tak /بڑی جیل سے چھوٹی جیل تکby Raja Anwar
زیرِ تبصرہ کتاب: بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک
 مصنف: راجہ انور صاحب 
صفحات: 200 
تبصرہ نگار: محمد عمران اسحاق 

راجہ انور صاحب کی کتاب "بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک" ایک ایسی تحریر ہے جو نہ صرف قارئین کو جیل کی دیواروں کے اندر کی دنیا میں لے جاتی ہے، بلکہ انسانی نفسیات، معاشرتی ناانصافیوں، اور نظامِ عدل و اصلاح کے گہرے مسائل کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ کتاب صرف ایک مصنف کی ذاتی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کا آئینہ ہے جہاں انسانیت کے ساتھ ہونے والے ظلم و تشدد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔


راجہ انور صاحب، جو ایک ترقی پسند، سوشلسٹ سوچ رکھنے والے، اور بے باک مصنف ہیں، نے اپنی سیاسی اور سماجی جدوجہد کا آغاز انہوں نے کالج سے ابھرنے والی طالب علم تحریک سے کیا جس کے نیتجے میں ایوب خان کو اقتدار چھوڑنا پڑا تھا ۔ جنرل ایوب خان مرحوم کے خلاف چلنے والی اس تحریک میں انہیں گرفتار کیا گیا اور راولپنڈی جیل، پھر بہاولپور جیل میں قید کیا گیا۔ یہ کتاب ان کے اسی قید کے تجربات کی عکاسی کرتی ہے، جہاں وہ جیل کے اندر کے وحشت ناک ، خوفزدہ اور ہولناک ماحول، قیدیوں کی نفسیات، اور ان پر ہونے والے بدترین ظلم و تشدد کو انتہائی دردناک اور حقیقی انداز میں بیان کرتے ہیں۔

راجہ انور صاحب نے جیل کے اندر کے ماحول کو اس قدر تفصیل سے بیان کیا ہے کہ قاری خود کو وہاں موجود محسوس کرتا ہے۔یہ کتاب جیلوں کی اندرونی دنیا کا ایک ایسا بے رحم اور کھلا ہوا آئینہ پیش کرتی ہے جس میں قیديوں کی زندگیوں کی تلخ حقیقتوں، ان کے دُکھوں، اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ راجہ صاحب نے اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف جیلوں کے اندر کے خوفناک ماحول کو بیان کیا ہے، بلکہ انسانی نفسیات، سماجی ناانصافیوں، اور نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔

 وہ جیل میں موجود مختلف قیدیوں کے بارے میں بتاتے ہیں، جن میں کچھ نمبردار، جمادار، اور بڑے مجرم ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ، وہاں پھانسی گھاٹ کے قیدی بھی ہوتے ہیں، جو عمر قید یا سزائے موت کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، سزائے موت پانے والے قیدیوں کی ذہنی کیفیات، عمر قید کے سزا یافتہ افراد کی مایوسی، ان کو پھانسی گھاٹ تک لے جانے کا دل خراش منظر اور جلادوں کے دلچسپ انٹرویوز بھی اس کتاب میں لکھے گئے ہیں۔، مصنف نے ان قیدیوں کی نفسیات، ان کے خوف، اور ان کی مایوسی کو انتہائی مؤثر انداز میں قاری کے سامنے پیش کیا ہے۔ خاص طور پر پھانسی سے پہلے قیدیوں کی کیفیت کا بیان دل کو دہلا دینے والا ہے۔

کتاب میں نو عمر لڑکوں پر ہونے والے ظلم و تشدد کا تذکرہ خاص طور پر افسوسناک ہے۔ راجہ صاحب بتاتے ہیں کہ کس طرح جیل میں موجود ان خوب صورت اور خوبرو لڑکوں کو بڑے مجرموں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، اور وہ ان کی ہوس کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہ منظر نامہ نہ صرف قاری کو رلا دیتا ہے، بلکہ معاشرے کے اندر موجود گہرے زخموں کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

 انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ جیلوں کے اندر رشوت خوری، منشیات کا کاروبار، اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں کس طرح پنپتی ہیں۔ یہ سب کچھ پڑھ کر قاری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ جیل صرف مجرموں کے لیے سزا کا مقام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جو خود اپنے اندر بے شمار جرائم کو جنم دیتا ہے۔ جیل کے اندر کی یہ ہولناک داستان پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔
Badi jel se choti jel tak /بڑی جیل سے چھوٹی جیل تکby Raja Anwar



راجہ صاحب نے جیلوں کے اندر غریب اور امیر قیدیوں کے درمیان فرق کو بھی واضح کیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح امیر قیدی جیل کے اندر بھی اپنی زندگی آرام سے گزارتے ہیں، جیل میں قید وہ ایک دولت مند کی کہانی بھی لکھتے ہیں جو وہاں بیٹھ کر اپنا کاروبار چلارہا ہے ، جبکہ غریب اور لا وارث قیدیوں کے لیے جیل ایک جہنم بن جاتی ہے۔ یہ ناانصافی صرف جیلوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمارے سماج کا ایک المیہ ہے جسے راجہ صاحب نے بڑی بے باکی سے بیان کیا ہے۔

کتاب کا سب سے رقت انگیز حصہ ندیم نامی ایک پانچ سالہ بچے کا واقعہ ہے، جو بہاولپور جیل میں راجہ انور صاحب اور ان کے دیگر قیدیوں کے ساتھ تھا۔ ندیم کی کہانی نہ صرف جیل کے قیدیوں کے لیے وقتی طور پر خوشی کے ماحول کی عکاسی کرتی ہے، بلکہ اس کے والدین کی المناک داستان کو بھی بیان کرتی ہے۔ چالیس سال بعد ندیم سے راجہ صاحب کی ہونے والی ملاقات اور اس کی زندگی کے بارے میں جاننا قاری کو ایک جذباتی اور امید سے بھرپور سفر پر لے جاتا ہے۔

راجہ انور صاحب نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف جیل کے ماحول کو بیان کیا ہے، بلکہ جیلوں میں اصلاحات کی شدید ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح قیدیوں کو ناقص خوراک، تشدد، اور غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیلوں کو صرف سزا دینے کی جگہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ وہاں قیدیوں کی اصلاح اور انہیں معاشرے کا کار آمد فرد بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ وہ جیلوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کرتے ہیں جو پڑھنے اور نظام میں اصلاحات کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں ۔

راجہ صاحب کی یہ کتاب صرف جیلوں کے نظام پر تنقید نہیں کرتی، بلکہ معاشرے کے کردار کو بھی زیرِ بحث لاتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح معاشرتی ناانصافیاں، غربت، اور جہالت لوگوں کو جرائم کی طرف دھکیلتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر معاشرہ ان مسائل کو حل کرے، تو بہت سے لوگ جرائم کی طرف مائل ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ 

جیل میں موجود بہت سے قیدی ایسے ہیں جن کا جرم سے کوئی تعلق نہیں پھر وہ کس طرح اس کڑی آزمائش میں مبتلا ہوئے سب کچھ پڑھتے ہوئے قاری آبدیدہ ہو جاتا ہے اور اس طرح کے نظام کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ بلآخر گناہ گار اور بے گناہ قیدیوں میں فرق کرنے کے لیے سسٹم اتنا بے بس کیوں ہے ؟ 

"بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک" صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک تحریک ہے۔ یہ کتاب ہمیں جیلوں کے اندر کی دنیا سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ، ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ راجہ انور صاحب کی یہ تحریر نہ صرف دلچسپ اور معلوماتی ہے، بلکہ انتہائی سبق آموز بھی ہے۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو انسانی حقوق، عدل، اور معاشرتی اصلاح کے بارے میں سوچتا ہے۔

راجہ انور صاحب کی یہ کاوش نہ صرف ان کے جرات مندانہ لہجے کی عکاسی کرتی ہے، بلکہ ان کی گہری انسانی ہمدردی اور معاشرتی بہبود کے لیے ان کے عزم کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ یہ کتاب پڑھنے والے ہر شخص کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتی ہے، اور اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم ایک بہتر دنیا کی تشکیل کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔

راجہ انور صاحب سے میرا تعارف ان کی یونی ورسٹی لائف میں ابھرنے والی محبّت کے لاجواب خطوط پر مشتمل کتاب " جھوٹے روپ کے درشن" سے ہوا جنہیں پڑھ کر میں نہ صرف راجہ صاحب کا دیوانہ ہوا بلکہ میرے دل میں ان کی بقیہ کتابوں کو پڑھنے کی امنگ بھی پیدا ہوئی ، اس طرح ان سے محبت کا یہ سلسلہ شروع ہوا ، اس وقت یہ زیرِ تکمیل کتاب " بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک" ان کی تیسری کتاب ہے جس کا مطالعہ آج میں نے مکمل کر لیا ہے،اس سے پہلے ان کی جلاوطنی کی رونگٹھے کھڑی کر دینے والی روداد " قبر کی آغوش" میں نے پڑھی تھی جس کے بعد ان سے ملنے کی طلب مجھ میں پیدا ہوئی اور اسی طلب کو پورا کرنے کے لیے میں ایکسپو سینٹر لاہور میں منعقد ہونے والے بک فیئر پر گیا ۔
Badi jel se choti jel tak /بڑی جیل سے چھوٹی جیل تکby Raja Anwar
وہاں پر ان سے نہ صرف ملاقات ہوئی بلکہ ان کی کتابوں پر سیر حاصل گفتگو بھی ہوئی ، ان کی شفقت اور محبت نے میری زندگی میں ایک نئی تحریک پیدا کردی ہے ۔

Post a Comment

0 Comments