حصّہ دوم
تبصرہ نگار:- محمد عمران اسحاق
973صفحات پر مشتمل یہ کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ پڑھے بغیر چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا۔
کرامت غوری نے تقریباً ایک ہزار صفحات کی کتاب ایسے ہی نہیں لکھ دی۔ وہ کتابیں پڑھنے کے شیدائی تھے۔ تاریخِ عالم اور برصغیر کی تاریخ انھیں زبانی یاد تھی۔ مقابلے کا امتحان پاس کرکے جب وہ سول سروس اکیڈمی میں پہنچے تو وہاں موجود سو ڈیڑھ سو برس کی وہ ڈائریاں بھی پڑھ ڈالی جو برصغیر پر قابض انگریزوں نے ہندوستان کے مختلف حصوں پر حکومت کرتے ہوئے لکھی تھیں۔ ان نایاب ڈائریوں کو پڑھنے کے بعد ہی وہ یہ نکتہ سمجھنے میں کامیاب ہوئے کہ مٹھی بھر انگریز کروڑوں ہندوستانیوں پر ڈیڑھ سو سال سے زیادہ عرصے تک کیسے کامیابی و کامرانی سے حکومت کرنے میں کامیاب ہوئے تھے ۔
وہ انگریز سرکار کی ان تھک محنت کو داد دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کے اس ہنر کو بھی جو وہ ہندوستانی نوابوں، راجوں، مہاراجوں کی وفاداریاں خریدنے میں صرف کرتا تھا۔
وہ جلیانوالہ باغ کے سفاکانہ قتل کے بعد اس خط کا ذکر کرتے ہیں جو وثیقہ داروں اور وظیفہ خواروں نے اپنی غیر مشروط وفاداری پر فخر کرتے ہوئے لکھا تھا۔ وہ اپنی اس خود نوشت میں اس لکھے گئے خط کی چند سطریں نقل کرتے ہیں
’’ہم نے سرکارِ انگلیشیہ کے دور میں جو امن و چین دیکھا ہے، وہ کبھی نہیں دیکھا اور سرکار نے باغیوں کا جو حشر کیا وہ بالکل جائز تھا، اس لیے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا دین ہمیں اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔‘‘
خط کے یہ الفاظ نقل کرنے کے بعد وہ ہمارے ان وزرائے اعظم کے نام لکھتے ہیں جو انہی وظیفہ خوروں کے خاندان سے ہیں اور کچھ نام ایسے بھی ہیں جو آئندہ کسی بھی وقت اس عہدے پر فائز کیے جاسکتے ہیں۔ اس خطے سے انگریز چلے گئے مگر ان کے فرماں بردار موجود ہیں۔
مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان ( موجودہ بنگلہ دیش) کے شہر کومیلا جانے والے اُن افسران کی خوب مٹی پلید کرتے ہیں جو کومیلا کی ایک محفل میں بڑی شوخی سے یہ بتاتے ہیں کہ یہاں غربت کا یہ عالم ہے کہ ’’مرغی ڈھائی روپے کی ملتی ہے اور عورت پانچ روپے کی۔‘‘ مغربی پاکستان کی نوکر شاہی نے مشرقی پاکستان کی عوام کی جس قدر تذلیل کی تھی اس کے بعد بنگلہ دیش تو وجود میں آنا ہی تھا۔
پروٹوکول ایک ایسا لفظ ہے جو اس کتاب میں بار بار آتاہے اور کیوں نہ آتا کہ سفارتکاری میں پروٹوکول کے مرحلے ہر قدم پر آتے ہیں۔ بقول مصنف نوکر شاہی کی وفاداری عام طور پر حاکم وقت سے ہوتی ہے۔ وہ جنرل ایوب خان کی تصویر کے ساتھ ہونے والے سلوک کا تفصیلی ذکر کرتے ہیں جو پڑھنے لائق ہے ۔
کرامت اللّٰہ غوری صاحب اس زمانے میں نیویارک میں تعینات ہوئے تھے جب ہزاروں نوجوان ففتھ ایونیو پر ویتنام جنگ اور امریکا کے صدر کے خلاف اپنا احتجاج بلند کرتے ہوئے ملتے تھے۔ وہ جون ایف کینیڈی اور ان کے چھوٹے بھائی کے قتل کی حیران کن روداد لکھتے ہیں۔
سفیرِ پاکستان تھے اور اپنے ملک سے بے حد محبت کرتے ہیں اسی لیے وہ مشرقی پاکستان کی عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ہمیشہ کڑھتے رہے۔ وہ مغربی پاکستان کی بیوروکریسی کے ہاتھوں ایک بنگالی آفیسروں کی تذلیل کا قصہ دکھ بھرے الفاظ میں بیان کرتے ہیں جس سے ان کے دلوں میں نفرت روز بروز بڑھ رہی تھی ۔
انہی دکھ بھرے قصوں میں سے ایک قصہ میڈیم نور جہاں کا ہے ۔
وہ بلبلِ پاکستان میڈم نورجہاں کی اس خواہش کا ذکر کرتے ہیں کہ ان کے ایک درجن بھاری بھرکم سوٹ کیسوں کو سفارتی سامان کے طور پر پاکستان بھیج دیا جائے۔
اب پی آئی اے کا جہاز ، پانی کا جہاز تو تھا نہیں۔ پی آئی اے نے اس فالتو سامان کو لے جانے سے انکار کر دیا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کی ذمے داری ایک بنگالی اعلیٰ افسر کے سپرد کر گئی ۔ اس بنگالی آفیسر نے مصنف کو وہ گفتگو سنائی جو بلبلِ پاکستان نے ہوائی اڈے پر اس شریف النفس افسر کے ساتھ کی تھی۔
کرامت نے وہ گفتگو اپنی کتاب میں من و عن لکھ دی ہے لیکن میری ہمت نہیں کہ وہ یہاں لکھ کر سکوں۔
مشرقی پاکستان سے ان کی محبت کتاب کے ہر صفحے پر جھلکتی ہے۔ متحدہ پاکستان کے آخری دن ہیں۔ یوں کہہ لیں کہ متحدہ پاکستان آخری سانسوں پر ہے۔ ایسے میں غوری صاحب لکھتے ہیں کہ
’’ہمیں ایک ایسے مؤقف، ایک ایسی پالیسی اور ایک ایسے ملٹری آپریشن کا دفاع کرنا تھا جو دفاع کے قابل نہیں تھا۔ جس پر دل نہیں ٹھکتا تھا۔ دل جانتا تھا کہ اپنا سکہ خود کھوٹا ہے۔ مشرقی پاکستان میں جاری فوجی مہم میں سب سے بڑی ہلاکت جمہوریت کے اس اساسی اور بنیادی اصول کی تھی جو ایک جمہوری معاشرہ میں حکومت کرنے کا حق اکثریت کو دیتا ہے۔ اور مشرقی پاکستان کے المیہ میں اقلیتی آبادی، اکثریت کو دبا رہی تھی۔ اسے پامال کر رہی تھی اور اس پر اپنی مرضی، جمہوریت کا اپنا ناقص تصور مسلط کرنا چاہ رہی تھی۔ دنیا کے ان گنت جمہوری معاشروں میں اس وقت بھی کئی ممالک ایسے تھے اور آج بھی ہیں جہاں اقلیتی گروہ اکثریت سے جداگانہ اپنی زمین اور اپنے ملک کامطالبہ رکھتے ہوں۔ لیکن مشرقی پاکستان کا قضیہ تو اس اعتبار سے تاریخ میں بالکل انوکھا تھا۔ جہاں اکثریت کی پشت کو دیوار سے لگا دیا گیا تھا۔ اور اقلیت نے اکثریت کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ علیحدگی کے لیے آواز اٹھائے، اپنی آزادی کا مطالبہ کرے اورسب راستے۔ وہ راستے جو جمہوری معاشروں میں عدم تشدد کے راستے ہوتے ہیں۔ بند ہو جانے کے بعد تنگ آ کر جنگ پر آمادہ ہو جائے۔ تنگ آمد، بجنگ آمد کی جو تفسیر مشرقی پاکستان میں ہو رہی تھی۔ اس کی نظیر تاریخ میں نہیں تھی۔’’
۔
ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں انھوں نے خوب خوب لکھا ہے: وہ لکھتے ہیں کہ
" جب بھٹو صاحب نے افغان مہمانوں کے لیے رقص و سرود کی محفل سجائی تو مادام نورجہاں نے انکار کر کے یحییٰ خان کے ساتھ بھٹو صاحب کے سلوک کا بدلہ لے لیا۔ مہدی حسن اور فریدہ خانم ایک دوسرے کے ساتھ اسٹیج پر نہیں آتے تھے۔ انھوں نے سر تسلیم خم کر دیا۔
پھر شہنشاہ ایران کی ایک دعوت کا ذکر کرنا نہیں بھولتے ۔ جب ہماری ایک معروف رقاصہ نے شہنشاہ کے حضور اپنے فن کا مظاہرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسے وردی والوں نے اٹھایا اور لاڑکانہ پہنچا دیا۔ جس کے نتیجے میں نیلو نے خود کشی کی کوشش کی۔ وہ تو بچا لی گئی لیکن وقت کے حکمران کی عزت محفوظ نہ رہ سکی۔ حبیب جالبؔ کی نظم ’’لاڑکانے چلو، ورنہ تھانے چلو‘‘ آج تک حکمرانوں کے دامن کا سیاہ دھبہ ہے۔ مصنف کسی بھی طرح کے ڈر اور خوف کو ایک طرف رکھ کر لکھتے ہیں اور وہ کسی کا بھی نام لکھنے اور کسی بھی واقعے کو بیان کرنے میں ڈر یا شرم محسوس نہیں کرتے اور کھل کر بے لاگ لکھتے ہیں ۔
حکمران جماعت کے قائد میاں نوازشریف پنجاب کے وزیر مالیات کیسے بنے یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے جسے پڑھے بغیر تاریخ کا قاری ادھورا ہے ، اسی طرح وہ گجرات کے چوہدریوں کے اقتدار کا سبب بھی بیان کرتے ہیں۔
محترم کرامت اللّٰہ غوری صاحب کو دنیا کے مختلف ممالک میں سفارت کاری کے جوہر دکھانے کا جو موقع ملا ان کی بھی مکمل تفصیل ایک سفر نامے کی طرز پر بیان کی گئی ہے۔
مرحوم جنرل ضیاء الحق، جنرل پرویز مشرف، میاں نواز شریف، کن حکمرانوں سے ان کا ربط و رابطہ رہا، کن افراد نے انھیں متاثر کیا اور کن ملکوں نے ان کا دل موہ لیا۔ خاص طور پر ان جاپانیوں کا ذکر وہ چشم پرنم سے کرتے ہیں۔ جنھوں نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر پانچ ہزار کی تعداد میں سمندر میں کود کر خود کشی کی تھی۔ یہ قومی حمیت کرامت کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور وہ حساب لگاتے ہیں کہ مشرقی پاکستان جب ہم سے رخصت ہوا تو کیا ہم میں سے کوئی ایک بھی تھا جس نے جاپانیوں جیسی قومی غیرت کا مظاہرہ کیا ہو۔
پوری کہانی پڑھنے کے بعد آخر میں مصنف دفترِ خارجہ میں موجود جاگیرداروں ، ویڈیروں اور طاقتوروں کی مداخلت سے اپنے قارئین کو آگاہ کرتا ، اگر کسی ادارے میں کسی ملازم کے سر پر کسی طاقتور کا ہاتھ نہ ہوتو اس کے ساتھ کس قدر ہتک آمیز رویہ اختیار جاتا ہے وہ اس کی کمال منظر نگاری کرتے ہیں ، ویڈیرہ شاہی اور جاگیرداروں کے سفارشی کلیچر میں مصنف خود زیرِ اعتاب آ جاتے ہیں اور پھر جو ان کے ساتھ بدترین سلوک کیا جاتا ہے وہ انتہائی افسوناک اور قابلِ مذمت ہے ، مصنف کے ساتھ یہ سلوک پڑھنے والے کو دکھی کر جاتا ہے ، اس ہتک آمیز رویے سے تنگ آکر وہ آخر میں اپنی مدت ملازمت پوری ہونے سے پہلے ہی سفارت کاری کو خیر باد کہہ جاتے ہیں اور اس کا شدید خمیازہ انہیں بھگتنا پڑتا ہے ۔
آخر میں اٹلانٹس پبلیشر کراچی سے شکوہ کروں گا کہ اُنہوں نے اتنی زبردست خود نوشت میں کمپوزنگ کی بے شمار غلطیاں کی ہیں ، ہر فقرے میں ، ہر پیرے میں حتیٰ کہ ہر ایک لائن میں بھی بہت زیادہ کمپوزنگ کی غلطیاں ہیں ، کتاب کو پبلش کرنے سے پہلے اگر پروف ریڈنگ کرنے کی زحمت کرلی جاتی تو اتنی شاندار ، جاندار اور لاجواب سوانح حیات کی خوب صورتی میں بے حد اضافہ ہوجاتا ۔
امید کرتا ہوں آئندہ آنے والے ایڈیشن میں اس کتاب کی پروف ریڈنگ لازمی کی جائے گی اور موجودہ کمپوزنگ کی غلطیوں کو ختم کیا جائے گا ۔
’’روزگارِ سفیر‘‘ پڑھنے کی چیز ہے۔ اسے چند سو یا ہزار لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
اگر آپ ، آپ بیتی اور سفر نامہ پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں اور ایک ہی وقت میں دونوں کا مزہ چکھنا چاہتے ہیں تو اس کتاب کو اپنی لائبریری کا حصّہ ضرور بنائیں ۔
0 Comments
Thank you