rozgar-e-safeer book review in Urdu Kitab-Tabsrah/روزگارِ سفیر اذ کرامت اللّٰہ غوری صاحب

rozgar-e-safeer book review in Urdu Kitab-Tabsrah/روزگارِ سفیر اذ کرامت اللّٰہ غوری صاحب


حصّہ اول

حصہ دوم کے لیے یہاں کلک کریں 

زیرِ تبصرہ کتاب:- روزگارِ سفیر 

مصنف:- کرامت اللّٰہ غوری صاحب 

پبلیشر:- اٹلانٹس پبلیشر کراچی 

صفحات تعداد:- 973

قیمت کتاب:- 3680 روپے 

تبصرہ نگار:- محمد عمران اسحاق 


سفارتی بنجارے کی یہ کہانی پڑھتے ہوئے نہ تو مُجھے اکتاہٹ محسوس ہوئی اور نہ ہی یہ محسوس ہوا کہ کتاب کے صفحات بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے اس کا وزن مجھ پر گِراں گزرے گا , نثر انتہائی سادہ اور آسان فہم ہے جس سے کہانی تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی ہے ، جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے اسی طرح قاری نئے نئے انکشافات اور نئے جہان سے آگاہ ہوتا رہتا ہے جو اس کے لیے حیران کن ،دل چسپ ، پرکشش اور حسین ہوتے ہیں۔

rozgar-e-safeer book review in Urdu Kitab-Tabsrah/روزگارِ سفیر اذ کرامت اللّٰہ غوری صاحب


یہ کہانی ہے ایک سفارتی مسافر کرامت اللہ غوری کی۔جس نے پاکستان کی پیدائش سے لے کر حکمران مرحوم پرویز مشرف کی ابتدائی سیاسی تاریخ کو بہت قریب سے دیکھا اور پھر تاریخی اور سماجی تناظر میں ان تاریخی واقعات و مشاہدات کا تجزیہ بھی کیا۔

 

کرامت اللّٰہ غوری نے فارن سروس میں 36 برس تک وطنِ عزیز کی مختلف ممالک میں بطور سفیر شاندار نمائندگی کی ہے ۔


انھوں نے اپنی کہانی کا آغاز وہاں سے کیا ہے جس وقت چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی کے لیے منت مانگنے کے لیے ان کے والد کو ایک ملنگ کی طرف سے ''ہدایت'' کی گئی تھی۔ ان کے والد دنیا و مافیہا سے بے خبر اس اللّٰہ والے کے کہنے پر خواجہ اجمیر شریف کے دربار پر حاضری دیتے ہیں اور پھر اس حاضری کے ٹھیک ایک سال بعد کرامت پیدا ہوئے۔ 

rozgar-e-safeer book review in Urdu Kitab-Tabsrah/روزگارِ سفیر اذ کرامت اللّٰہ غوری صاحب


دلی سے کراچی کے سفر کا حال انہوں نے جس طرح بیان کیا ہے۔ وہ اذیت ناک ہے اور جاں فزا بھی۔ ہجرت کے وقت کے کراچی کے بارے میں آپ لکھتے ہیں کہ؛


''آج جس کراچی میں ہر طرف کوڑے کے ڈھیر لگے نظر آتے ہیں اور سڑکوں پر گرد کی دبیز تہیں دکھائی دیتی ہیں۔ میں نے اپنے بچپن میں اسی کراچی کی سڑکوں کو رات کے وقت دھلتے دیکھا ہے۔ بات اگر سنی سنائی ہو تو اس کی صداقت میں ایک لمحے کو گمان بھی کیا جاسکتا ہے لیکن یہ تو آنکھوں دیکھی بات ہے۔ ایڈوانی اسٹریٹ کے اپنے فلیٹ کی بالکنی میں کھڑے ہوکر دیکھا کرتے تھے کہ رات گئے میونسپلٹی کے پانی کے ٹرک آتے تھے جن میں نیچے کی طرف سے چہار جانب پانی کے فوارے چھوٹتے تھے۔ بندر روڈ تو دھلتی ہی تھی کہ بڑی شاہراہ تھی لیکن ایڈوانی اسٹریٹ اور ایسی ہی دوسری گلیوں کو بھی دھلائی سے محروم نہیں رکھا جاتا تھا۔ میونسپلٹی کے خاکروب بھی اس زمانے میں کام چور نہیں تھے۔ سو گلیوں میں ہر دوسرے، تیسرے دن صفائی ہوتی تھی اور کوڑا کرکٹ بھی پابندی سے اٹھا کرتا تھا۔ اس عہد کے کراچی میں وہ تمام لوازمات پائے جاتے تھے جو ایک مہذب شہرمیں ہونے چاہئیں اور جس میں شہریوں کے حقوق کا تحفظ ایمان کا درجہ رکھتا ہے!''


مصنف ایک ہندو سیٹھ کے گھر ہونے والی واردات/ ڈکیتی کی تکلیف دہ منظر کشی کرتے ہیں اور پھر اس واقعے کے بعد سندھ کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پیر الٰہی بخش کی ان کوششوں کو سراہتے ہیں جو وہ سیٹھ کے لوٹے ہوئے مال و اسباب کو واپس دلوانے میں کرتے ہیں ، اس طرح کے واقعات ہماری روایت کی عکاسی کرتے ہیں اور پڑھنے لائق ہیں ۔


مصنف کی جائے پیدائش چونکہ "*دلّی*" ہے اس لیے اس شہر کے لیے ان کی محبت فطری طور پر نمایاں ہے ، دلّی شہر کی چھوٹی چھوٹی گلیوں ، محلوں ، دکانوں کا ذکر اتنے پرکشش انداز میں تحریر کیا ہے کہ پڑھنے والا بذاتِ خود ان خوب صورت جگہوں کی رنگینیوں میں ڈوب جاتا ہے ، دلی کی تاریخ ، ثقافت ، تہذیب و تمدن ، لب و لہجہ اور تاریخی مقامات کو انہوں نے اپنی ان یاد داشتوں میں امر کردیا ہے جو پڑھنے والوں کے لیے قابلِ رشک ہے ۔


آپ نے اردو میڈیم اسکول سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ وہ اپنے اساتذہ کرام کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:


" کیا لوگ تھے جو راہِ جہاں سے گزر گئے

جی چاہتا ہے نقشِ قدم چومتے چلیں " 


وہ کراچی میں ابتدائی دور کے مشاعروں اور ان مشاعروں کو لوٹ کر لے جانے والے شاعروں کا تفصیل سے ذکر کرتے ہیں جو تاریخ میں اپنا مقام رکھتے ہیں۔ شاعروں کے نام ، کلام اور محبت بھرے پیغام پڑھنے لائق ہیں ۔


''روزگارِ سفیر'' میں سفارت کاری کے معاملات تو بہت بعد میں آتے ہیں، اس سے پہلے ہندوستان سے دل خراش ہجرت، کراچی میں پڑاؤ اور یہاں کے دل کش نقش و نگار تفصیل سے قارئین کے سامنے آجاتے ہیں۔ کراچی کی سڑکیں۔ یہاں کے پرانے اور نو آباد محلے، یہاں کے سینما گھر، ان کے قوانین اور ان میں دکھائی جانے والی فلمیں۔ کوئی کراچی کے شب و روز سے واقف ہونا چاہتا ہے تو کرامت اللّٰہ غوری کی یہ سوانح حیات قدم قدم پر اس کی رہنمائی کرتی ہے۔


مصنف اپنی زندگی کا سفر بیروت سے شروع کرتے ہیں۔ جس پر پہلی نظر پڑتے ہی وہ اس کے دیوانے ہوجاتے ہیں۔ وہ پڑھنے والوں کو بیروت کی تاریخ سے ، خوب صورتی سے اور یہاں کی تہذیب وتمدن اور ثقافت سے آگاہ کرتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ لبنان، اردن اور شام کا علاقہ خلافت عثمانیہ کے زیر اثر تھا۔ جسے پہلی جنگ عظیم کے بعد مختلف ناموں سے تقسیم کردیا گیا۔ کرامت اللّٰہ غوری بیروت یونیورسٹی میں ایک امریکی وظیفے پر گئے تھے۔ اس زمانے میں اس طرح کا وظیفہ ملنا ایک بڑا اعزاز تھا جو بہت کم نوجوانوں کے حصے میں آتا تھا۔


وہ لبنانیوں کی فلسطینیوں سے عداوت کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ہمیں خلیل جبران کے گاؤں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ وہ چھوٹے سے پہاڑی گاؤں ''بُشریٰ'' میں پیدا ہوا۔ زندگی نیویارک میں گزاری، وہیں سے ایک زبردست ادیب بن کر دنیا کے سامنے ابھرا۔ 

:خلیل جبران نے ہی لکھا ہے کہ 

 ''تمہارے بچے، تمہارے بچے نہیں، وہ روحِ ازل کی تخلیق ہیں۔ تم اپنے بچوں کو اپنی محبت ضرور دو لیکن انہیں اپنا وجدان دینے کی کوشش نہ کرنا۔ اس لیے کہ اپنا وجدان وہ خود لے کر آتے ہیں۔''


 تمام عمر ایک جلا وطن کے طور پر زندگی گزارنے والا خلیل جبران جب موت کی آغوش میں گیا تو اس کی وصیت کے مطابق اس کی میت اس کے آبائی گاؤں''بُشریٰ'' لائی گئی اور اسی گاؤں کی مٹی میں اس کی تدفین کی گئی ۔ اس طرح کے بہت سے واقعات کتاب میں جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں جو پڑھنے والے کو علم میں اضافے کا سبب بنتے ہیں ۔


کرامت اللّٰہ غوری صاحب نے یورپ ، جاپان ، مراکش ،ترکی ، کویت، عراق ، الجزائر، مصر، ماریطانیہ، مالی ، قبرص اور دنیا کے بہت سے دیگر ممالک میں کونصلر اور سفیرِ پاکستان کے طور پر نمائندگی کی ہے۔ ان ممالک کا اتنا زبردست تعارف کروایا ہے کہ قاری کے مَن میں دنیا گھومنے کی امنگ پیدا ہوجاتی ہے اور وہ عالمِ تصور میں کھوکر مصنف کے ساتھ سیرو سیاحت کرنے لگتا ہے جو ایک الگ ہی احساس ہے۔


آپ نے دو فوجی آمروں ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت کو بیرونی ممالک میں سرکاری دوروں کے دوران بہت قریب سے دیکھا اور ان کی اوچھی حرکتوں سے جو وطنِ عزیز کی تضیحک ہوئی یا ہو سکتی تھیں ، ان کو تفصیل سے بیان کیا ہے ، ان حکمرانوں میں مختلف جنرلز اور سیاستدان شامل ہیں انہوں نے ان کی اوچھی حرکتوں کو کھل کر بیان کیا ہے جسے پڑھنے کے بعد قاری اپنے ملک پر مسلط حکمرانوں کی عقل و شعور پر ماتم کرنے لگتا ہے اور ایسے گھٹیا لوگوں سے گِھن کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔

rozgar-e-safeer book review in Urdu Kitab-Tabsrah/روزگارِ سفیر اذ کرامت اللّٰہ غوری صاحب


مصنف نے پاکستانی عوام کے ذہنوں میں جڑ پکڑتی ہوئی جاگیردارنہ سوچ پر خوب طنز کے نشتر برسائے ہیں آپ لکھتے ہیں کہ؛

۔

" لیکن میں کویت میں سفیر کی حیثیت سے پانچ طویل سال گزارنے اور اس معمورہ میں ہر قسم کے اور ہر طور طریق کے پاکستانیوں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ قوم اب اخلاقی اعتبار سے انحطاط اور زوال کی اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ جاگیر دار اب صرف جاگیر دار گھرانوں میں ہی پیدا نہیں ہوتے بلکہ کہیں بھی کسی بھی طبقے میں پیدا ہوسکتے ہیں ۔ 


جاگیرداری ایک ذہنیت کا نام ہے ۔ ایک بڑی مخصوص ذہنیت کا جس کا خمیر استحصال سے اٹھایا جاتا ہے ۔ یہ استحصال ہر طرح سے اور ہر سطح پر ہوتا ہے ۔ جس کو موقع مل جائے وہ اپنی منفعت اور ذات کے فائدے کے لیے کسی کا بھی استحصال کرسکتا ہے اور کرتا ہے اور سب سے زیادہ وہ کرتے ہیں جو عوام کے نمائندے ہونے کے دعوے دار ہوتے ہیں ۔ ان ہی کے ووٹوں سے فتح یاب ہوکر اسمبلیوں میں براجمان رہتے ہیں اور عوام کے نام پر قوم کے اعلیٰ تر مفاد کے حوالے سے دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کا کاروبار کرتے ہیں جس کا سب سے زیادہ نقصان قوم کو اور اس کے مفادات کو پہنچتا ہے ۔"


پھر پاکستان کے جاگیردارانہ سماج کے اثرات سے رنگی قیادت نے جس طرح وطنِ عزیز کا ستیا ناس کیا وہ بھی پوری قوم کے سامنے ہے اس کے علاوہ جو کوئی بھی دیانتداری سے ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہے اس کو جس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ اس کو جس طرح ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے اس کو بھی دیانتداری سے بیان کیا ہے جس سے بیوروکریسی میں ویڈیرہ شاہی اور جاگیردارنہ سوچ کی عکاسی نمایاں ہوتی ہے ۔


غوری صاحب نے اپنی اس آپ بیتی میں مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں معاہدہ تاشقند اور شملہ معاہدہ کا بھی ذکر کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ شملہ معاہدہ میں کشمیر کا سودا ہوچکا بعد میں آنے والی حکومتیں بس آئیں بائیں شائیں ہی کرنے پر اکتفا کرتی رہی ہیں۔ غوری صاحب نے کشمیر کمیٹی کے چئیرمینوں نواب زادہ نصراللہ خاں اور مولانا فضل الرحمٰن کی کارگزاریوں کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ 

rozgar-e-safeer book review in Urdu Kitab-Tabsrah/روزگارِ سفیر اذ کرامت اللّٰہ غوری صاحب


کہنے کو تو یہ کتاب خود نوشت ہے مگر یہ آپ بیتی سے زیادہ تاریخ کی ایک مستند کتاب ہے ۔  

 جاری ہے۔مزید تبصروں کے لیے کتاب تبصرہ کو فالو کریں۔اور یہ تبصرہ آپ  کو کیسا لگا اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں کیجئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

Post a Comment

0 Comments